بنگلورو،13؍اکتوبر(ایس او نیوز) ایک طرف ریاست کے موسم میں خلیج بنگال میں طوفان کے سبب غیر معمولی بے اعتدالی پیدا ہوئی ہے تو دوسری طرف ریاست کی سیاست میں بھی ایک نیا طوفان کھڑا ہو گیا ہے-
ریاستی وزارت میں وزیر اعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا کی طرف سے کی گئی تبدیلی ریاستی بی جے پی میں ایک نئے طوفان برگشتگی کا سبب بن گئی ہے- ایڈی یورپا نے اتوار کے دن یہ فیصلہ کیا کہ بی سری راملوسے وزارت صحت کا قلمدان لے کر اسے وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن ڈاکٹر سدھاکر کے سپرد کر دیا جائے-
گورنر واجو بھائی والا کی طرف سے قلمدانوں کی تبدیلی کے متعلق حکم نامہ بھی پیر کے روز جاری کردیا گیا- پیر کے روز اس معاملہ پر بی جے پی میں سری راملو اور ان کے حامیوں کی طرف سے زبردست ناراضی کا اظہار کیا گیا -
سری راملو نے بی جے پی کے قومی قائدین سے بات کر کے استعفیٰ دینے کی پیش کش کی اور کہا کہ انہیں پارٹی کی کوئی ذمہ داری دے دی جائے-دوسری طرف نائب وزیر اعلیٰ گووند ایم کارجول نے بھی ان سے سماجی بہبود کا قلمدان بغیر کسی مشورے کے واپس لے لئے جانے پر برہمی ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ ایسے مرحلہ میں جبکہ وہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے نتیجے میں ہوم کوارنٹائن ہیں وزیر اعلیٰ نے ان سے سماجی بہبود کا قلمدان واپس لے لیا ہے-
انہوں نے کہا کہ بحیثیت وزیر اعلیٰ ایڈی یورپا کو یہ پورا اختیار ہے کہ قلمدان بدلیں لیکن اس پر مشورہ کیا جا سکتا تھا- سری راملونے وزیر اعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا سے ملاقات کی اور ان سے مانگ کی کہ ان کے پاس صحت کا قلمدان برقرار رکھا جائے - بتایا جاتا ہے کہ ایڈی یورپا سے سری راملو کی ملاقات پانچ منٹ سے زائد نہ رہی- اس ملاقات کے دوران ایڈی یورپا نے دو ٹوک کردیا کہانہیں سماجی بہبود کا قلمدان دیا گیا ہے اسی کو سنبھالیں -
وزیر اعلیٰ سے ملاقات کے بعد سری راملونے ایک اخباری کانفرنس کے دوران اپنی برہمی کا اظہار دبے الفاظ میں کیا اور کہا کہ وزیر اعلیٰ کور یہ پورا اختیار ہے کہ وہ کس وزیر کو کونسا قلمدان دیں - انہوں نے اپنے اس اختیار کے مطابق ان سے صحت کا قلمدان لے کر انہیں سماجی بہبود کی ذمہ داری دی ہے- اب وزیر اعلیٰ کی طرف سے انہیں جوذمہ داری سونپی گئی ہے وہ اسے پورا کریں گے-
بتایا جاتا ہے کہ سری راملو نے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کے دوران قلمدان بدلے جانے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے وزارت سے استعفیٰ دینے کی پیش کش کی اور کہا کہ وہ پارٹی کو منظم کرنے کیلئے کام کریں گے اقتدار کی انہیں ضرورت نہیں - تاہم وزیر اعلیٰ نے انہیں استعفیٰ واپس نہ لینے کیلئے منایا -وزیر اعلیٰ سے ملاقات کے بعد سری راملو نے بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری بی ایل سنتوش سے بات کی اور انہیں بتایا کہ وہ استعفیٰ دینے جا رہے ہیں -
انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ انہیں پارٹی کی کوئی ذمہ داری دے دی جائے وہ کرنا ٹک میں پارٹی کومنظم کرنے میں لگے رہیں گے- تاہم سنتوش نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ جلد بازی نہ کریں - چونکہ دو اسمبلی حلقوں میں ضمنی انتخاب ہونے جا رہا ہے ایسے میں ان کے کسی غلط فیصلہ کا اثر پارٹی کے امکانات کو متاثر کر سکتا ہے اس لئے وہ تحمل سے کام لیں - انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے مرکزی قائدین سے بات چیت کیلئے اگر وہ دہلی آنا چاہیں تو آ سکتے ہیں لیکن اب جو فیصلہ لیا جا چکا ہے اسے بدلا نہیں جائے گا-